Fashion

Monday, 11 January 2016

دل کی لگی۔ عمران خان آخر کیا چاہتا ہے؟ ایک ایسی تحریر جومخا لفوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دے گی۔۔۔

Imran-Khan-PTI-Vision-Urdu-Coulmn

دل کی لگی۔ عمران خان آخر کیا چاہتا ہے؟

(عمران خان کے سیاسی معملات سے اختلاف اپنی جگہ مگر اس تحریر سے اختلاف صرف تنگ نظر اور کم ظرف لوگ ہی کر سکتے ہیں)
----------------------------------------------------------------------------------------
پاگل خان۔ ہٹلر خان۔ یوٹرن خان۔ زکوٰۃ خان۔کینسر خان۔ سونامی خان۔ یہودی خان۔ طالبان خان۔ اسٹیبلشمنٹ خان۔ یہ خان۔ وہ خان۔
کون ہے یہ بندہ جو اتنی ساری (آپس میں متضاد) برائیوں کا بیک وقت مجموعہ ہے؟ کیا کیا ظلم ڈھائے ہیں اس بندے نے اس ملک پر؟ 65 سال میں اس ملک کا بیڑہ ہی غرق کردیا ہوگا جو اتنے مختلف غلیظ ناموں سے پکارا جاتا ہے۔

اور کون ہیں اسے ان ناموں سے پکارنے والے؟ ملک و قوم کے وہ ہمدرد جنہوں نے 65 سال سے اس ملک کو ترقی کا گہوارہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ؟ وہ زرداری جس نے کبھی بھوکی ننگی قوم کے پیسوں سے گھوڑوں کو مربے نہیں کھلائے؟ وہ شریف خاندان جس نے قوم کی ہڈیوں سے گودہ تک نچوڑ کر دنیا بھر میں اربوں ڈالر کے کاروبار نہیں لگائے؟ وہ الطاف بھائی جس نے روشنیوں کے شہرمیں پچیس سال میں پچیس ہزار لاشیں نہیں گرائیں؟ وہ اسفندیار ولی جس نے پختون قوم کو اس کی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے عوض نہیں بیچا؟ وہ فضل الرحمن جس نے بینظیر سے لے کر مشرف اور زرداری سے لے کر شریفوں تک ہر حکومت میں چند وزارتوں کیلئے اسلام کا پاک نام نہیں بیچا؟یہ سیٹھی، یہ میر شکیل، افتخارچودھری، میڈیا مالکان، یہ سب کے سب اس کے مخالف آخر کیوں ہوئے؟کیا اس وجہ سے کہ اس بندےنے قائد اعظم کے پاکستان کو پچھلے 65 سال میں اس حال تک پہنچایا؟
۔
اور کیا چیز ہے جو اس بندے کو بے چین رکھتی ہے؟ 63 سال کی عمر میں جبکہ لوگ اپنے بچوں کیساتھ پرسکون وقت گزارنا پسند کرتے ہیں، اس عمر میں یہ بندہ پاکستان کے طول و عرض میں دیوانوں کی طرح پھرتا ہے۔ آخر کیا چاہئیے اسے؟ اس کے مخالفین کہتے ہیں کہ اسے وزارت عظمیٰ کی طلب بے چین کیے ہوئے ہے۔ کیا واقعی؟ لیکن آخر وزارت عظمیٰ کی طلب کسی کو کیوں ہوتی ہے؟ پیسہ کے لئے؟ شہرت کیلئے؟ کرپشن کیلئے؟ لیکن۔۔۔۔۔۔
پیسے کیلئے؟ لیکن پیسے کا تو اس بندے کو لالچ نہیں اور یہ دنیا جانتی ہےاور اس کی ساری زندگی اس امر کی گواہ ہے۔ اس نے تو اپنا کرکٹ سے کمایا ہوا اکثر پیسہ بھی اس ملک کے غریبوں کیلئے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی میں جھونک دیا۔ پیسہ ہی چاہئیے ہوتا تو برطانیہ میں کسی کاؤنٹی ٹیم کی کوچنگ سنبھالتا اور ساتھ ہی کرکٹ میچوں میں کمنٹری سے کروڑوں کماتا۔ پیسہ چاہئیے ہوتا تو جمائمہ خان سے طلاق کے عوض ہی (برطانوی قوانین کے مطابق) اربوں وصول کرسکتا تھا۔
۔
شہرت کیلئے؟ لیکن عمران خان سے زیادہ شہرت بھلا کس پاکستانی کو اللہ نے دی ہوگی ؟ وہ شخص کہ برطانوی شاہی خاندان جس کیساتھ اٹھنے بیٹھنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور انڈیا سے ترکی اور ڈیووس تک بغیر کسی سرکاری عہدے کے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ واحد پاکستانی لیڈر ہے جس کو بیرونی دنیا میں کرپشن یا سوئس اکاؤنٹس یا بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے نہیں جانا جاتا بلکہ اس کا نام اچھے لفظوں میں لیا جاتا ہے۔ اب ایسےبندے کو بھلا مزید شہرت کی کیا ضرورت ہوگی؟
۔
کرپشن کیلئے؟ لیکن کرپشن کا تو یہ بندہ روادار ہی نہیں۔ پختونخوا میں تین سال سے حکومت ہے نا اس کی۔ کوئی کہہ سکتا ہے ایک پیسے کی کرپشن کی بات اس کے بارے میں؟ کوئی کارخانہ لگایا ہو اس نے؟ کوئی رشتہ دار سرکاری عہدوں پر لگوا دیا ہو؟ کسی کی سفارش کردی ہو؟ کوئی پلاٹ، کوئی بینک اکاؤنٹ، کوئی جدہ، ملائشیا، دبئی میں محل وغیرہ؟ نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ الٹا واحد پاکستانی لیڈر ہے جس کے اثاثے ہر سال پہلے کے مقابلے میں کم ہوتے جارہے ہیں (ورنہ تو لوگ ایم این اے بن کر ہی سات نسلوں کا انتظام فرما لیتے ہیں)۔
تو پھر؟ آخر کیا چیز اس بندے کو چین نہیں لینے دیتی؟
۔
اس بندے کو سمجھنا ہو تو چند لمحوں کیلئے اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھ کر آنکھیں بند کرکے سوچیں۔
۔
کیا بھکاری بننا آسان ہے؟ کسی کے آگے جھولی پھیلانا اور سوالی بننا؟ اور وہ بھی اپنے فائدے کیلئے نہیں بلکہ قوم کے سسکتے ہوئے غریب مریض بچوں کے واسطے۔ وہ کیا چیز ہے جس نے اس آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ، پاکستانی تاریخ کے مشہور ترین کرکٹراور کامیاب ترین کپتان کو بھکاری بننے پر مجبور کیا؟ گلی گلی ، شہر شہر، گاؤں گاؤں ۔ اپنی عزت نفس کو پس پشت ڈال کر جھولی پھیلا کر، بھکاری بننے پر مجبور کیا؟ بیس سال سے یہ بندہ جھولی پھیلائے ملک اور بیرون ملک (صرف پاکستانیوں سے) پاکستانیوں کیلئے بھیک مانگتا ہے۔کوئی اسے بھکاری ہونے کے طعنے دیتا ہے، کوئی زکوٰۃ خان کہتا ہے، کوئی کسی اور طریقے سے مذاق اڑاتا ہے لیکن یہ بندہ پھر بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہ آسان نہیں ہے۔ خدا کی قسم یہ آسان نہیں ہے۔قدم قدم پر دل کو مارنا پڑتا ہے ۔ اپنی عزت نفس ، انا اور فخر کا خون کرنا پڑتا ہے۔ یقین نہ آئے تو کبھی یہ کرکے دیکھ لیں۔ جھولی پھیلا کر کسی دن لوگوں کے سامنے کھڑے ہوں (وہ بھی اپنے لئے نہیں دوسروں کیلئے)۔ سرسید احمد خان نے علی گڑھ یونیورسٹی کیلئے اسی طرح جھولی پھیلائی تھی اور آج عمران خان ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم کیلئے ایسا کرتا ہے۔کیا چیز ہے جوکسی بندے کو ایسےکام کرنے پر مجبور کرتی ہے؟
۔
انسان کو اللہ نے بہت کمزور پیدا کیاہے۔ اس سے غلطیاں ہوتی ہیں اور کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں۔ عمران خان بھی اللہ کا پیدا کیاہوا ایک کمزور انسان ہی ہے۔ اس سے زندگی میں سینکڑوں ہزاروں غلطیاں اور کوتاہیاں ہوئی ہوں گی جن پر وہ شرمندگی کا اظہار بھی کرتا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ نہ تو کبھی اس کی نیت میں کھوٹ رہا ہے اور نہ کبھی اس نے عوام کا پیسہ کھایا ہے۔کوئی تو بتا دے کہ 18 سال کی سیاسی زندگی میں خان نے سیاست کو ایک بار بھی ذاتی فائدے، پیسے، فیکٹریوں یا کرپشن کیلئےاستعمال کیا ہو؟ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیےپاکستان میں کوئی ایک ایسا سیاستدان نظر آتا ہے جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ وہ سیاست کو ذاتی فائدے اور کاروبار کیلئے استعمال نہیں کرتا بلکہ عوام کا سچا خیر خواہ ہے؟ شریف خان کے اربوں پاؤنڈ کے کاروبار؟۔ سیاست کا ثمر۔۔۔زرداری کے اربوں ڈالر کے اثاثے؟۔سیاست کا ثمر۔۔۔ اسفندیار ولی کے دبئی اور ملائشیا میں کاروبار اور محلات؟ ۔سیاست کا ثمر۔۔۔ الطاف حسین کے لندن میں منی لانڈرنگ کے لاکھوں کروڑوں پاؤنڈ؟۔ سیاست کا ثمر۔۔۔ ملا ڈیزل کی دینی مدارس پر پھیلی دکانداری؟۔ سیاست کا ثمر۔۔۔
ایسے میں سوال تو اٹھتا ہے نا کہ سیاست کو کاروبار سمجھنے والے یہ لوگ عوام کی اصل معنوں میں فلاح کا کیوں سوچیں گے؟ جو تھوڑے بہت عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کے ڈرامے یہ کرتے ہیں، اس میں بھی ڈٹ کر کھاتے ہیں اور ایسا کوئی کام نہیں کرتے جس سے ان کی سیاسی گرفت سے عوام کی آزادی کی راہ نکلے۔ تعلیم، صحت، پولیس، پٹواری، کرپشن، انصاف اور "نظام" ٹھیک کرنا ان کی ترجیح ہی نہیں ہوتی۔ گلیاں نالیاں پکی کرنے ، چند فلائی اوور بنانے اور بسیں چلادینے کو ہی ترقی بتا کر یہ قوم کی نسلیں برباد کررہے ہیں۔ بیرونی ممالک سے ترقیاتی پراجیکٹس کے نام پر قرضے لیتے ہیں، آدھے سے زیادہ خود کھاتے ہیں اورباقی سے "جگاڑ" لڑا کر قوم پر ترقی کا احسان کرتے ہیں۔ جبکہ انہی کے زیر حکومت آبادی صاف پانی، پوری خوراک، بجلی، گیس، روزگار، انصاف اور صحت و تعلیم کو ترستی ہے۔ یہ سلسلہ کیا یونہی چلتا رہے گا؟ اگر ہاں تو آخر کب تک؟ کب تک یہ قوم سڑکوں، نالیوں اور بسوں کو "ترقی" سمجھتی رہے گی؟ شاید ہمیشہ ۔ کیونکہ ان غلاموں کی آزادی بہت مشکل ہوتی ہے جنہیں اپنی زنجیروں سے پیار ہوجائے۔
.
مجھے نہیں معلوم کہ عمران خان کی سیاسی جدوجہد کامیاب ہوگی یا نہیں۔مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ خان کبھی پاکستانی سیاست میں کامیاب ہوگا یا نہیں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس ملک میں تبدیلی لانے گا اور قائد کا پاکستان بنتے دیکھنے کااس کا خواب پورا ہوگا یا نہیں۔ لیکن ایک سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ اگر آج عمران خان ناکام ہوگیا تو شاید اس قوم کو67 سال سے حکمران طبقات کی غلامی سےکوئی نہیں نکال سکے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے "نظام" میں اپنی جڑیں اتنی دور تک پھیلا لی ہیں کہ انہیں اکھاڑ پھینکنا کسی عام بندے کے بس کی بات نہیں۔پولیس ان کی، پٹواری تحصیلدار سے لے کر کمشنر اور سیکرٹری تک ان کے۔ عدالتیں ان کی، جج ان کے، صحافی ان کے، اخبار اور ٹی وی چینل ان کے۔لوٹ مار کا پیسہ ان کے پاس بہت اور غنڈوں بدمعاشوں گلو بٹوں کی فوج ان کے پاس۔ اگر عمران خان اپنی تمام تر قوت برداشت، اٹھارہ سالہ انتھک محنت، بہترین نیت ، عوام اور خاص کر نوجوانوں میں اعتماداور اچھی شہرت کیساتھ ان کی جڑیں نہ اکھاڑ سکا تو مستقبل میں شاید کوئی اس راستے پر چلنے کی ہمت ہی نہیں کرے گا۔اس تھکادینے والے راستے پر ہمیں خان کے دست و بازو بننا ہی ہوگا۔اس جدوجہد کو دل لگی نہیں سمجھنا۔ اسے "دل کی لگی" بنانا ہوگا۔ان زرداری، شریف، شجاعت، اسفندیار، اور فضل الرحمن جیسوں نے اپنی اگلی نسلیں ہم پر حکمرانی کیلئے تیار کر لی ہیں۔ جس طرح ہم ان کے غلام ہیں، اسی طرح یہ ہمارے بچوں کو موسی گیلانی، بلاول زرداری، مریم نواز، حمزہ شہباز، مونس الہی، مولانا لطف الرحمن اور ایمل ولی خان کی غلامی میں دینا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں یہ عمران خان یا اس کے بچوں کے مستقبل کی جنگ نہیں ہے۔ عمران خان کے بچے اپنی زندگی بہترین گزار رہے ہیں اور عمران خان بھی اپنی زندگی بھرپور طریقے سے گزار چکا ہے۔ یہ ہماری اور اور آپ اور ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔

0 comments:

Post a Comment